دو رنگی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - منافق، مکار شخص، دوہری چال کا۔ "بختیارک کو تو گالیاں دینے لگا کہ کیوں او منافق دورنگی مسلمان کی تعریفیں کرتا ہے۔"      ( ١٨٩١ء، طلسم ہوشربا، ٢٤٦:٥ ) ٢ - دہری، دو طرح کی، منافقانہ۔ "دل میں کہا آپ مرے ساتھ دو رنگی چال چل رہے ہیں۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ١٦٠:١ ) ٣ - تلوّن، حالت یا صورت کی تبدیلی، ایک روش پر نہ رہنے کی کیفیت، دو رنگ کا ہونا۔  چونکاہوں خواب سے ابھی محفل یار دیکھ کر سکتے میں ہوں دو رنگئی لیل و نہار دیکھ کر      ( ١٩٢٧ء، آیات وجدانی، ١٥٢ ) ١ - بیک وقت دو حالتیں ہونا، ذو معنویت، ابہام۔  نہ کیوں ہو ہر بات میں دو رنگی دماغ رہتا ہے آسمان پر وہ شوخ مست شباب بھی ہے غرور حسن و جمال بھی ہے      ( ١٨٨٨ء، طلسم ہو شربا، ١٠:٣ ) ٢ - ظاہر اور باطن ایک نہ ہونے کی حالت، منافقت، دو رویہ پن۔  دورنگئی بت نا آشنا نے لوٹ لیا وفا کا بھیس بنا کر جفا نے لوٹ لیا      ( ١٩٦٢ء، فعان آرزو، ٦٩ ) ٣ - شعبدہ بازی، فریب، دھوکا۔ "اگر یہی تہذیب ہے تو یہ ہم کو دورنگی اور مکر سکھاتی ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، تہذیب الاخلاق، ٧٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت عددی 'دو' کے ساتھ فارسی سے اسم جامد 'رنگ' لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت و نسبت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "مینا ستونتی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - منافق، مکار شخص، دوہری چال کا۔ "بختیارک کو تو گالیاں دینے لگا کہ کیوں او منافق دورنگی مسلمان کی تعریفیں کرتا ہے۔"      ( ١٨٩١ء، طلسم ہوشربا، ٢٤٦:٥ ) ٢ - دہری، دو طرح کی، منافقانہ۔ "دل میں کہا آپ مرے ساتھ دو رنگی چال چل رہے ہیں۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ١٦٠:١ ) ٣ - شعبدہ بازی، فریب، دھوکا۔ "اگر یہی تہذیب ہے تو یہ ہم کو دورنگی اور مکر سکھاتی ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، تہذیب الاخلاق، ٧٥ )